دلچسپ خبریں

حیدرآباد دکن کے سابق مسلم حکمران کا سونے سے بنا لنچ باکس چوری

حیدرآباد: (ویب ڈیسک) بھارت میں سابق مسلمان ریاست حیدرآباد دکن کے سابق حکمران میر قاسم علی خان کے ہیرا جڑے طلائی توشہ دان (لنچ باکس) کو چرا لیا گیا۔ چرائی گئی اشیا میں یاقوت اور سونے کی بنی ایک چائے کی پیالی، طشتری اور چمچہ بھی شامل ہے۔

تین کلو وزنی ان اشیا کی قیمت تقریباً 70 لاکھ ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ اشیا آخری نظام میر قاسم علی خان کی ملکیت تھیں۔ ایک زمانے میں وہ دنیا کے امیر ترین شخص تھے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر قبضے کے بعد خود مختار مسلمان ریاست حیدرآباد دکن پر ناجائز قبضہ کر کے اسے بھارت میں شامل کر لیا تھا۔ اس چوری کا پیر کی صبح کو پتہ چلا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ چوری اس سے پہلے والی رات کو ہوئی۔ اسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک تلوار ایک اور میوزیم سے دس سال قبل چوری ہو گئی تھی۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں دو لوگوں پر چوری کا شبہ ہے۔ انڈیا کے معروف اخبار کے مطابق پولیس نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ چوروں نے سی سی ٹی وی کیمرے سے چھیڑ چھاڑ کی تاکہ ان کی چوری کی کوئی ریکارڈنگ نہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جس شیشے کی الماری میں یہ چیزیں رکھی ہوئی تھیں ان کے شیشوں کو سکریو کھول کر نکالا گیا ہے۔

یہ چیزیں نظام میوزیم میں تھیں جس کا افتتاح سنہ 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس کے نوادرات میں میر عثمان علی خان کو سنہ 1937 میں دیے گئے بیش قیمتی تحائف شامل ہیں۔
عثمان علی خان انڈیا کی سب سے بڑی ریاست حیدرآباد کے حکمران تھے۔ ان کا انتقال 1967 میں ہوا تھا۔ ان کے مشہور زمانہ خزانے میں یعقوبی یعنی سفید ہیرا بھی شامل تھا جو ایک انڈے کے برابر تھا اور اسے دنیا میں موجود پانچواں سب سے بڑا ہیرا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے جواہرات بھی ان کے خزانے میں شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *